”خدارا بیٹیاں جاہلوں کو مت دو“: سوشل میڈیا پر وائرل اس غمگین تصویر کی اصل حقیقت کیا ہے؟

”خدارا بیٹیاں جاہلوں کو مت دو“: سوشل میڈیا پر وائرل اس غمگین تصویر کی اصل حقیقت کیا ہے؟

سوشل میڈیا پر اکثر ایسی تصاویر وائرل ہو جاتی ہیں جو انسان کو اندر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ایسی ہی ایک تصویر آج کل تیزی سے شیئر کی جا رہی ہے جس میں ایک نوجوان جوڑا خوشگوار موڈ میں نظر آ رہا ہے، جبکہ اوپر ہسپتال کے بیڈ پر پڑی ایک زدوکوب یا شدید بیمار لڑکی کی تصویر منسلک ہے اور نیچے لکھا ہے: ”خدارا بیٹیاں جاہلوں کو مت دو“۔

اس پوسٹ نے ہزاروں صارفین کو غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے اور لوگ سسرالیوں پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ تصویر اور اس کے ساتھ کی جانے والی باتیں سچی ہیں؟ آئیے جانتے ہیں اس واقعے کی مکمل حقیقت۔

تصویر میں موجود افراد کون ہیں؟

تفصیلات کے مطابق یہ تصویر پاکستان سے تعلق رکھنے والی صحافی اقراء کائنات اور ان کے شوہر کی ہے۔ اقراء کائنات میڈیا کی دنیا سے وابستہ تھیں اور ان کی شادی کے بعد کی یہ تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

واقعہ کیا تھا؟

یہ واقعہ سال 2020 میں پیش آیا تھا جب اقراء کائنات کی ہسپتال میں پراسرار حالت میں موت واقع ہو گئی تھی۔

  • خاندان کا الزام: اقراء کے والدین اور خاندان کا دعویٰ تھا کہ ان کی بیٹی کو سسرال والوں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور مبینہ طور پر زہر دے کر قتل کیا۔

  • قانونی کارروائی: واقعے کے بعد پولیس نے سسرالیوں اور شوہر کے خلاف قانونی مقدمہ درج کر کے تحققیات کا آغاز کیا تھا۔

سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے جھوٹ

اگرچہ یہ واقعہ اور خاتون کی موت بالکل سچی ہے، لیکن سوشل میڈیا پیجز اپنے ویوز اور لائکس بڑھانے کے لیے اس تصویر کے ساتھ من گھڑت کہانیاں جوڑ رہے ہیں۔ کچھ پیجز اسے 'جہیز نہ لانے پر تشدد' اور کچھ اسے بالکل تازہ واقعہ بنا کر پیش کر رہے ہیں، جبکہ یہ 2020 کا پرانہ کیس ہے۔

نتیجہ

یہ سچ ہے کہ ایک ہنستی مسکراتی لڑکی کی زندگی سسرالیوں کے مبینہ تشدد اور مظالم کی وجہ سے ختم ہو گئی، لیکن اس پرانی تصویر کو بغیر تصدیق اور غلط معلومات کے ساتھ وائرل کرنا نا انصافی ہے۔ ایسی خبروں کو شیئر کرنے سے پہلے حقیقت جاننا انتہائی ضروری ہے۔

0 Comments